7 دسمبر 2011 - 20:30

امريکہ نے ايران ميں اتارے گئے اپنے جاسوس طيارے کو خفيہ آپريشن کے ذريعے واپس لينے يا اسے تباہ کرنے کا منصوبہ عملدرامد سے پہلے ہي منسوخ کرديا ہے-

ابنا: وال اسٹريٹ جنرل نے اپني ايک رپورٹ ميں بتايا ہے کہ امريکي حکام نے جاسوس طيارے کي واپسي يا اسے ايران کے اندر ہي تباہ کرنے کا منصوبہ ، ايران کي جانب سے ممکنہ جوابي اقدامات کے خوف سے منسوخ کرديا ہے-

وال اسٹريٹ جنرل کے مطابق ايک اعلي امريکي عہديدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کي شرط پر بتايا ہے کہ امريکي حکام اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ ايسا کوئي بھي اقدام کسي بڑے حادثے ميں تبديل ہوسکتا ہے لہذا اس پر عملدرامد کا امکان نہيں ہے-

مذکورہ امريکي عہديدار نے مزيد کہا کہ جاسوس طيارے کو تباہ کرنے کے لئے امريکي حملہ آور ٹيم کے ايران ميں داخلے کو تہران کي جانب سے جنگي اقدام قرار ديا جاسکتا ہے-

واضح رہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران کي مسلح افواج کے اليکٹرونک جنگ اور اينٹي ائير کرافٹ يونٹوں نے مشرقي ايران کي فضائي سرحد ميں محدود پيمانے پر جارحيت کرنے والے امريکا کے آر کيو ايک سو ستر قسم کے ڈرون طيارے کو اپنے کنٹرول ميں لينے کے بعد نيچے اتار ليا تھا-

امريکي حکام نے سي اين اين ٹي وي چينل سے بات کرتے ہوئے اس بات کو تسليم کيا ہے کہ مشرقي ايران ميں ايراني فوج نے جس ڈرون طيارے کو اپنے قبضے ميں ليا ہے وہ سي آئي اے کے جاسوسي مشن پر تھا-...............

/169